سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

ابتدا میں تھی بہت نرم طبیعت اس کی
قلب و جاں پاک تھے شفاف تھی طینت اس کی
پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی
اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشاکر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

بھر دیا تو نے بھلا کونسا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں
ایک اک سانس ہے اس صورت شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں
اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو میں سجدہ کر لوں

اب تو یہ خوں کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے
باپ سے بھائی سے بیٹے سے بھی لڑ جاتا ہے
جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے
خود میرے شر کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے
اب تو لازم ہے کہ میں خود کو ہی سیدھا کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر
مجھ پہ پہلے نہ کھلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کترتا ہے یہ قائد بن کر
شیطنت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

کچھ جھجکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ شرماتا ہے
نت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے
اب یہ میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں برا سوچتا رہتا ہوں یہ کرجاتا ہے
کیا ابھی اس کی مریدی کا ارادہ کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

اب جگہ کوئی نہیں میرے لئے دھرتی پر
میرے شر سے بھی سوا ہے یہاں انسان کا شر
اب لگتا ہے یہی فیصلہ مجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے وہاں سوپر پاور
میں کسی اور ہی سیارے پہ قبضہ کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں

ظلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نت نئے پیچ مذاہب میں ہیں ڈالے اس نے
کر دیئے قید اندھیروں میں اُجالے اس نے
کام جتنے تھے میرے سارے سنبھالے اس نے
اب تو میں خود کو ہر اک بوجھ سے ہلکا کرلوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں

Views: 50

Comment

You need to be a member of VU HELP to add comments!

Join VU HELP


2nd Sem
Ayesha Undleeb . November 16, 2018 at 12:40am

waao great 

SPONSORED LINKS

© 2018   Created by Muhammad Anwar Tahseen.   Powered by

Badges  |  Report an Issue  |  Terms of Service