عقل اور عشق

عقل سوچ رہی تھی کہ
آگ سے بنی چیز مٹی سے بنے ہوئے کو سجدہ نہیں کر سکتی۔
مگر اس وقت تک عشق سجدہ ریز ہو کر فرشتہ بھی بن چکا تھا۔

عقل سوچ رہی تھی کہ
آگ میں کودنے سے آگ جلا کر راکھ کر دے گی۔
مگر اتنی دیر میں عشق آگ میں چھلانگ بھی لگا کر ابراھیم بھی بن چکا تھا۔

جہاں عقل ختم ہو جاتی ہے۔
عشق کا سفر وہاں سے ہی شروع ہوتا ہے۔
جب عقل نے کہا کہ میں اس مقام سے آگے ایک قدم بھی اٹھایا تو میرے پر جل جائیں گے۔
وہاں سے عشق کی معراج شروع ہوئی۔
اور عشق "قاب قاسین او ادنیٰ" تک آ گیا۔

عقل کا کہنا تھا کہ
کہ آخر کیسے کوئی ایک پل میں آسمانوں کی سیر کر کے آ سکتا ہے۔
مگر عشق اتنی دیر میں معراج پر ایمان لا کر صدیق(على۴) بھی بن چکا تھا۔

جب عقل گرمی اور ظلم و جبر سے گھبرائی کھڑی تھی
تب عشق اونچی آواز میں "احد احد" پکار کر بلال بن چکا تھا۔

جب عقل اس سوچ میں تھی کہ
دانت توڑ دینے سے کیا فائیدہ ہو گا۔ الٹا درد ہی ہو گا۔
اتنی دیر میں عشق اپنے سارے دانت توڑ کر اویس قرنی بن چکا تھا۔

عقل سوچ رہی تھی کہ
اُس طرف لاکھوں کا لشکر اور اس طرف صرف 72۔
عشق اتنی دیر میں پورا کنبہ قربان کر کے حسین۴ بھی بن چکا تھا۔

عشق ہی امام ہے۔ عقل تو غلام ہے۔

Views: 66

Reply to This

Replies to This Discussion

jazakALLAH Khair such a Blessed, Lovely, Outclass, Wonderful, Beautiful sharing..

عشق ہی امام ہے۔ عقل تو غلام ہے۔

Thanks for the appreciation and like. :)

waao great sayings 

awesome words ....

Thanks alot...

RSS

SPONSORED LINKS

© 2018   Created by Muhammad Anwar Tahseen.   Powered by

Badges  |  Report an Issue  |  Terms of Service