آقا و مولا حضرت سیدنا امام حسن المجتبی علیہ السلام خلافت کے زمانے میں

آقا و مولا حضرت سیدنا امام حسن المجتبی علیہ السلام
خلافت کے زمانے میں جب امام حسن علیہ السلام نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی صلح کروائی تو ایران کے بادشاہوں اور وزیروں نے حضرت امام حسن علیہ السلام کو دعوت پر بلایا ۔ آپ علیہ السلام نے ان کی دعوت قبول کرلی ۔ لہٰذا ایران میں اعلان کردیا گیا نواسہ رسول حضرت امام حسن علیہ السلام تشریف لارہے ہیں ۔ ایران میں حضرت مولا علی مشکلکشاہ علیہ السلام کے عاشق بھی بہت زیادہ تھے جب انہوں نے سنا کہ ہمارے مولا کا بیٹا فرزند امام حسن علیہ السلام تشریف لارہے ہیں تو وہ سب دوڑے کوئی کہتا میں یہ تحفہ پیش کروگا کوئی کہتا میں سب سے زیادہ قیمتی طائف پیش کروگا ۔

ان سب میں ایک موچی تھا بہت ہی زیادہ غریب تھا موچی آسمان کی طرف دیکھ کر رونے لگا ۔ لوگوں نے پوچھا ارے بھائی سب خوشی منارہے ہیں تم کیوں رورہے ہو ۔ موچی کہنے لگا میں بہت زیادہ غریب ہوں یہ سب امیر ہیں میرے پاس کچھ نہیں جو میں اپنے مولا علی علیہ السلام کے فرزند کو تحفہ پیش کرسکو ۔ موچی سارا دن روتا رہا ادھر سب لوگ جشنِ آمد حسن علیہ السلام منارہے ہیں ۔ جب امام حسن علیہ السلام تشریف لے آئے ۔تو سارے لوگ وہاں چلے گئے جہاں پر آپ علیہ السلام تشریف فرما تھے ۔ موچی شرمندگی کی وجہ سے روتے ہوئے کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی اس طرف دیکھتا جہاں امام علیہ السلام تشریف فرما تھے بغیر دیکھے امام علیہ السلام کو گھر آگیا ۔ زور زور سے رونے لگا ۔ اس کی بیوی نے پوچھا کیا ہوا ۔جب موچی نے ساری بات بتائی تو وہ پہلے بہت خوش ہوئی کہ میرے مولا علی کا فرزند آیا ہے اور پھر وہ بھی رونے لگ گئی ۔ لہٰذا بیوی نے اپنے خاوند سے کہا تم ایک موچی ہو ۔ تم امام حسن علیہ السلام کےلیے ایک نعلین مبارک بناو اور وہ تحفہ پیش کرنا ۔ لہذا موچی اسی وقت نعلین مبارک بنانے لگ گیا ساری رات لگا کر نعلین مبارک بنالی ۔
صبح سویرے جب نعلین مبارک بناکر آپ علیہ السلام کو تحفہ دینے کےلیے نکلا تو بیوی نے پیچھے سے آواز دی رکو ۔ موچی رک گیا ۔ بیوی نے موچی سے حضرت امام حسن علیہ السلام کو جو نعلین مبارک تحفے میں دینے تھے موچی سے لےکر پہلے ان کو چوما اور پھر رونے لگی اور نعلین مبارک پکڑ کر مدینہ کی طرف منہ کرکے کہنے لگی یا سیدہ زھرا سلام اللہ علیہا ہم بہت غریب ہیں ہمارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں یہ کہہ کر بیوی نے موچی سے کہا ان نعلین مبارک کو ایسے عام پکڑ کے نا لے جانا ۔ موچی کی بیوی نے اپنا ڈوبٹاں اتارا اور نعلین مبارک اس میں لپیٹ کر کہنے لگی موچی سے ان نعلین مبارک کو اپنے سینے سے لگا کر لے جاو.

موچی نے نعلین مبارک اٹھا کر سینے سے لگائے ہوئے مجمع میں پہنچ گیا ۔ سب لوگ امام حسن علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے ایران کے بادشاہ نے 5 ہزار سکے آپ علیہ السلام کو تحفہ میں دیئے ۔ آپ علیہ السلام کے سامنے بیشمار تحفہ پڑے تھے ۔ موچی بھی اس مجمع میں شام ہوکر تحفے دینے کےلیے بڑھا مگر لوگوں نے موچی کی غریبی والی حالت دیکھ کر پیچھے جہاں جوتے پڑے تھے دھیکیل دیا ۔ موچی وہاں بیٹھ گیا جہاں جوتے پڑے تھے آگے مجمع میں امیر ترین لوگ تھے ۔ موچی نعلین مبارک کو چومنے لگا کبھی رو کر آسمان کی طرف دیکھتا تو کبھی امام علیہ السلام کے چہرے انور کؤ دیکھتا ۔ ادھر غم زدوں کے حال جاننے والوں کو خبر ہوگئی ۔ امام حسن علیہ السلام نے اچانک مجمع میں دیکھنے لگ گئے ۔ آپ نے اٹھ کر فرمایا اے فلاں شخص ادھر آو ۔ موچی نے سنا دوڑتا ہوا امام حسن علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑا عرض کرنے لگا حضور میں بہت غریب ہوں یہ سب امیر لوگ ہیں میرے پاس اس نعلین مبارک کے سوا آپ کےلیے کچھ نہیں امام حسن علیہ السلام رونے لگے اور فرمایا ہمارے آل بیت المقدس میں سیرت نہیں بلکہ نیت دیکھی جاتی ہے موچی نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کی نعلین مبارک سے اس کی بنائی ہوئی نعلین مبارک بہت چھوٹی ہے موچی رو کر عرض کرنے لگا اے نواسہ رسول ﷺ میری بنائی ہوئی نعلین مبارک بہت چھوٹی ہے اور آپ نے جو پہن رکھی ہے وہ بہت بڑی ہے اگر آپ میری نعلین مبارک استعمال کرے گئے تو آپ کے پاوں پر زخم ہوجائے گئے ۔امام حسن علیہ السلام نے فرمایا تمہارا دل دیکھوں یا اپنے زخم دیکھو ۔۔سبحان اللہ آپ علیہ السلام کی لجپالی پر میں صدقے جاو ۔ جب موچی نعلین مبارک دے کر جانے لگا تو امام حسن علیہ السلام نے آواز دے کر فرمایا رک جاو یہ پانچ ہزار سکے لے جاو ۔ موچی کہنے لگا حضور میری ساری زندگی کےلیے 2 سکے ہی کافی ہیں یہ تو پانچ ہزار ہیں لہذا امام کے دوبارہ کہنے پر موچی نے پانچ ہزار سکے اٹھائے اور خوشی سے چلنے لگا ۔ پھر امام حسن علیہ السلام نے فرمایا اے شخص رک جاو موچی پھر واپس پلٹا امام حسن علیہ السلام نے فرمایا وہ سکے مجھے بادشاہ نے تحفے میں دیئے تھے اور میں نے تجھے دے دیئے میں نے ابھی تک تمہیں کچھ نہیں دیا ۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا جاو تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں. موچی خوشی سے اور زیادہ جھومنے لگا سارا مجمع حیران ہوگیا ۔ موچی جب واپس جانے لگا تو امام حسن علیہ السلام نے تیسری بار پھر فرمایا اے بزرگ روک جاؤ موچی واپس پلٹا تو امام حسن علیہ السلام نے فرمایا ہمارے اہلِ بیت کی چاہنے والی بیوی کو بھی بتا دینا وہ بھی جنتی ہے ۔۔ اب تو موچی کی خوشی کی انتہا نا رہی ۔پھر جب گھر کے لئے واپس چلنے لگا چوتھی بار پھر امام نے فرمایا ادھر آو اور سارے مجمع کے سامنے امام حسن علیہ السلام نے اپنے عاشق موچی کو سینے سے لگایا ۔ ادھر سارے مجمع والے جو پہلے اس موچی کو پیچھے دھکیل رہے تھے موچی اس قسمت پر عش عش کرنے لگے ۔۔۔۔

Views: 82

Reply to This

Replies to This Discussion

Gud hy ... n thanks

Jazak ALLAH Khair......keep it up bro!!

subhan Allah

beautiful blessed post jazakALLAH Khair!

RSS

Forum

GDB CS304 last date is 16 august 2018

Started by Raja Kamran in
General Discussion
Last reply by + caмe4ѕтυdιeѕ 23 hours ago. 1 Reply

+~❤❤ zil - hajj ka chand mubarak+~❤❤

Started by +" Heaven Scent "+ in
General Discussion
Last reply by Ayesha Andleeb on Sunday. 1 Reply

GDB PHY301

Started by Raja Kamran in
General Discussion
Last reply by + caмe4ѕтυdιeѕ on Sunday. 3 Replies

SPONSORED LINKS

© 2018   Created by Muhammad Anwar Tahseen.   Powered by

Badges  |  Report an Issue  |  Terms of Service